Naya Chand

Creator Samina Tabassum
First Sentence نیا چاند میں اور نیا چاند امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج پہلی بار آپ سے مخاطب ہور ہی ہوں ۔ زندگی کبھی آسان نہیں رہی لیکن آج میں بڑے اعتماد سے یہ دعوی کر سکتی ہوں کہ ایک پڑھی لکھی عورت ہونے کے ناطے میں نے ہر امتحان کو ایک چیلنج سمجھ کے قبول کیا اور اپنے عزم و ہمت سے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی ۔ بدقسمتی کہیں یا جہالت، ہمارا معاشرہ جتنی شدت سے اپنی خلوت کو ایک عورت کے وجود سے ایک جنت بے نظیر میں تبد یل کر نے کے خواب دیکھتا ہے ۔ عالم جلوت میں اتنی ہی شدت سے عورت کی تذلیل کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔اسے چپ چاپ برداشت کرتے رہنا کم از کم میرے بس کی بات کبھی نہیں رہی ۔ سوال یہ تھا کہ میں کیا کروں؟ میرے آس پاس کی عورتوں کا جواب یہ تھا کہ’’ برداشت کرو یا نظر انداز السلام وعلیکم ! 66 می دونوں کام میرے لیے ممکن نہیں کیونکہ میری نظر میں معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کا ذمہ ظالم کے ساتھ ساتھ مظلوم پہ بھی ہوتا ہے ۔نیا چاند تو میں نے سوال کرنا سیکھا۔ کیوں؟ 8 کیوں؟ کیوں؟ ہے، پھر ایک ٹیچر ہونے کے ناطے میں میرا فرض اولین بن گیا کہ غلطی ، نا انصافی اور محرومی کی ناصرف نشاند ہی کروں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کروں ۔ اس لڑائی میں میر اہتھیار ہے تعلیم اور محبت کا پر چار۔ میں جو کچھ لکھتی ہوں وہ بظاہر تلخ سہی مگر اصل میں وہ میری آپ سب سے محبت ہے۔ جو مجھے آپ کے دکھوں پہ ڈلاتی ہے اور میرے آنسو بھی بخشش تو کبھی رتبہ بھی ہاۓ ماں ، دوسری عورت ، کزن میرج ، شادی ، ماں خوش کیوں نہیں ۔ پرد یہی پیا اور بیوہ سہاگن کی صورت صفحہ قرطاس پکھر جاتے ہیں ۔ اپنی ہر نظم کالا ڈ ، پیار،نفرت، غصہ ،دکھ، درد، تکلیف اور مسکراہٹ پہلے میں نے اپنی جان پہ سہا ہے ۔ اس کو اپنے اندر پالا ہے اور پھر ایک ماں کی طرح اس کو جنم دیا ہے۔ تو اب میں سب صرف نظمیں نہیں ہیں ۔ بلکہ میری بیٹیاں ہیں ۔ اور جیسا کہ دستور ہے، بیٹیاں گھر میں نہیں رکھی جاتیں ، بلکہ مجھدار ہوتے ہی بیاہ دی جاتی ہیں ۔ آج یہ نیا چاند میری بیٹیوں کے بیا ہے جانے کی نوید لے کر طلوع ہورہا ہے ۔ نیا چاند صرف خوبصورتی کانہیں تبدیلی اور ایک نئے آغاز کا استعارہ بھی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ یاد رکھیں گے کہ یہ ایک ثمین قسم کی سوچ اور زندگی نہیں ہے ۔شمینیسم تو ہرگھر ، ہرگلی ، ہرشہراور دنیا کے ہر گوشے میں موجود ہے۔ ہر وہ عورت جونیا چاند خودمحبت کرنے اور دوسروں کو محبت کرنے کا حق دینے پر یقین رکھتی ہے ۔ جو پچ کو سچ کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ جو اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی اور ہر ہاتھ تو ڑسکتی ہے۔ جو اپنی عزت کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ کونوچ سکتی ہے۔ جو اپنی عزت اور بقا کی لڑائی لڑ رہی ہے ۔ وہ ثمینیسم ہے۔ اب ہرثمین تبسم عقل وشعور کی اونچی سے اونچی سیڑھی چڑھنے کے لیے تیار ہے ۔انتظار صرف اس انمول گھڑی کا ہے جب آپ اپنے عقل وشعور کو استعمال کر تے ہوۓ اپنی اپنی بیٹیوں کی اور اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کا عزم مصمم کر یں گے ۔ ایک انسان کے طور پر، آج میں اپنی نظروں میں سرخرو ہوگئی ہوں ۔ آپ اپنی راۓ کے اظہار کا پوراحق رکھتے ہیں ۔ [email protected] اب مجھے اجازت دیجیے۔ والسلام آپ سب سے پیار کر نے والی 9
Published 2014
Language Urdu
Pages 218
Copies 1
Tags Urdu Poetry
Collection Community Texts
Read 2 times

Customer Reviews

There is no reviews yet